ہمارا نجات دہندہ


آج کے مُطالعے میں ہم دیکھیں گے کہ روت کی کتاب کے اِختتام پر نعومی، روت اور بوعز کے کرداروں کا اثر ختم نہیں ہوتا۔ اِسرائیل کی تاریخ، یسوع کی وِلادت کے ذریعے اِس کی رسائی آج ہماری زندگیوں تک جاری ہے۔ آئیے اِس پر غور کریں۔

پائیدار مُحبت

بہت سے لوگ روت کی کتاب کی طرف اِس لیے راغب ہوتے ہیں کیونکہ یہ ایک جوان لڑکی اور بُزرگ کی مُحبت کی کہانی ہے اور اِس کا اِختتام خوشگوار ہے۔ اگر اِس کتاب میں ہمیں صِر ف یہی مُحبت کی کہانی نظر آتی ہے تو پھر کوئی بڑی بات ہماری نظروں سے اوجھل ہے۔ اِس کہانی کو بیان کرنےکے لیے الفاظ اور زُبان کا اِنتخاب کیا جاتا ہے مگر پسِ پردہ جو مُحبت ہے وہ خُدا کی مُحبت ہے۔ چارا بواب پر مُشتمل اِس کتاب میں عبرانی لفظ حیسد کو تین دفعہ خُداِ کے لیے اِستعمال کیا گیا ہے۔ اِس کو روت کی کتاب کے ا باب 8، 2 باب 20 اور 3 باب 20 میں دیکھا جا سکتاہے۔

تینوں دفعہ حیسد کا ترجمہ مہربانی کیا گیا ہے۔ لیکن یہ لفظ زیادہ پیچیدہ ہے۔ عہد نامہ قدیم میں حیسد کا رترجمہ مُحبت، شفقت، اِحسان یا فضل کے طور پر کیا گیا ہے۔ روت کی مُختصر کتاب میں ہمیں خُدا کی مُحبت، شفقت اور اپنے لوگوں کی دیکھ بھال کے مُتعدد اِشارے مِلتے ہیں۔ یہ مُحبت کی ایک بڑی اور نہ ختم ہونے والی کہانی ہے۔


چُھٹکارا مُہیا کرنے والا رِشتہ دار

عہد نامہ قدیم میں روت اور بوعز کی کہانی قدیم اِسرائیلی ثقافت میں قریبی رِشتہ داروں کے وسیلے بحالی کی کہانی ہے۔ اِس کہانی میں عبرانی لفظ گوئیل بوعز کی شخصیت کو بیان کرنے کے لیے اِستعمال کیا گیا ہے۔ اِس لفظ کا مطلب ہے ایسا رِشتہ دار جو بحالی کا کام کرتا ہے۔ بوعز اپنی برادری میں ایک باکردار شخص تھا۔ اُس کے پاس وہ سارے وسائل تھے جن کے ذریعے وہ روت اور نعومی کو بچا سکتا تھا، کیونکہ وہ دونوں خود کُچھ نہیں کر سکتی تھیں۔ اِس مُشکل کا حل خُدا کی شریعت کے وسیلے سے نِکلا۔ وہ اُس زمین کو جو نعومی کے شوہر کی مِلکیت تھی اُس کو چُھڑوا سکتا تھا اور اِس کے بعد وہ روت کے ساتھ شادی کر کے پیدا ہونے والی اولاد کو اُس کے شوہر اور سُسر کے ساتھ منسوب کرکے اُن کے نام کو آگے لے کر چل سکتا تھا۔ بوعز نے زمین کو چُھڑوانے کے لیے رقم ادا کی اور روت کو اپنا لیا ۔

کیا آپ مسیح کو بھی اِسی طرح سے دیکھتے ہیں ؟ یسوع مسیح خدا کا بیٹا، زمین پر اِس مقصد کے لیے آیا کہ وہ گُمشُدہ اور گِرے ہوئے لوگوں کو چُھڑائے۔ صلیب پر موت کے وسیلے سے اُس نے ہمارے جُرم اور شرمندگی کو برداشت کیا، اور اِس طرح ہمیں گُناہ کی غُلامی سے بچایا۔ اُس کے جی اُٹھنے کے وسیلے سے ہماری فِدیہ ممکن ہوا اور جو لوگ اُس پر بھروسہ رکھتے ہیں اُنہیں ایک نئے روحانی خاندان میں شامِل کیا گیا ہے۔ اور اِس کے ساتھ یسوع ہمیں آسمان کی شان وشوکت کی تمام دولت کے مُشترکہ وارث کے طور پر دیکھتا ہے ( رومیوں 8 باب 16 -17)۔ اور وہ تمام مسیحیوں کو خُدا کے عظیم اور مُحبت کرنے والے خاندان میں بھائی اور بہن کے طور پر دیکھتا ہے۔


بحالی کی تاریخ

آخر میں روت کی کتاب یسوع کے نسب نامے کے بارے میں کُچھ حیرت انگیز معلومات کے ساتھ اِختتام پذیرہوتی ہے۔ یہ روت اور بوعز کے پیدا ہونے والے بچے کے بارے میں بتاتی ہے: "ایک بیٹا پیدا ہوا سو انہوں نے اس کا نام عوبید رکھا وہ یسی کا باپ تھا جو داؤد کا باپ ہے"۔اِن کا بیٹا اسرائیل کے بادشاہ داؤد کے آباؤاجداد میں سے تھا، جِس کی نسل میں سے خُدا نے یسوع مسیح کے دُنیا میں آنے کا وعدہ کیا تھا۔

چوتھے باب سے پتا چلتا ہے کہ روت نے یہوداہ کے لوگوں کے درمیان کافی وقت گُزارا تھا لیکن بوعز اُس کو ایک موآبی کہتا ہے۔ اُس کی شناخت ایک غیر قوم کے طور پر تھی۔ اور یہودیوں کے لیے وہ ایک غیر قوم تھی۔ لیکن خُدا کے روت کے لیے کوئی اور منصوبہ تھا۔ خُدا اِس موآبی عورت کے نام کو اپنے بیٹے کے نسب نامے کا حِصہ بنانا چاہتا تھا۔ اِس کی شمولیت خُدا کے بڑے منصوبے کو ظاہر کرتی ہے کہ غیر قوموں کو خُدا کے خاندان میں شامل کریں۔ مسیح کی آمد نے نجات کا دروازہ سب کے لیے کھول دیا۔ یہودیوں اور غیر قوموں کے لیے یکساں رسائی۔ مسیح کے نصب نامے میں روت کا نام اِس بات کو طرف اِشارہ ہے ( متی 1 باب 5-6)۔

روت اور بوعز کی نسل اور بیت المقدس میں آباد ہونے کا مطلب تھا کہ داؤد وہاں پیدا ہوگا، اور اِس طرح کئی نسلوں کے بعد مریم اور یوسف کو اگستس کی مردم شُماری کے وقت ناصرت سے داؤد کے آبائی شہر جانا ہوگا۔ اِس کے نتیجے میں یسوع زندگی کی روٹی بیت المُقدس جِس کا مطلب زندگی کی روٹی ہے نبیوں کی پیش گوئی کے مُطابق پیدا ہوا۔

ہمیں اِس بات پر کبھی شک نہیں کرنا چاہیے کہ جو کُچھ ہماری زندگی میں ہورہا ہے خُدا کی مرضی ہے اور خُدا ایک ایسا منصوبہ بنا رہا ہےجو اِس سے بڑا ہے جو ہم سمجھ نہیں سکتے۔ وہ لوگوں، ثقافتوں، حکومتوں، اور یہاں تک کہ جغرافیہ کے ساتھ کام کرتا ہے تاکہ اِس دُنیا میں اپنی مرضی لاسکے۔ جب ہم اپنے آپ کو اِس کے ساتھ جوڑ دیتے ہیں، یہاں تک کہ جب ہم اِس کا منصوبہ نہیں دیکھ سکتے، ہم اُمید اور توقع کرتے ہیں کہ وہ ہماری زندگیوں اور دُنیا سے کُچھ کر رہا ہے۔ اُس کا نام ہمیشہ جلال پائے۔


" خداوند کا خوف زندگی بخش ہے۔اور خدا ترس سیر ہو گا اور بدی سے محفوظ رہیگا۔ (اِمثال 19 باب 23)۔


Recent Posts
Archive
Search By Tags
Follow Us
  • Facebook Basic Square
  • Twitter Basic Square
  • Google+ Basic Square